نیمہ شعبان کی مناسبت ، طبی عملہ اور رضاکارانہ گروہ کی ہمت افزائی کے متعلق حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان

نیمہ شعبان کی مناسبت سے اپنی قوم کے ہر شخص کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے بہت اہم تقریر کی ۔‌

عزاداروں اور انجمنوں کو حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نصیحت / ریڈیو محرم کا افتتاح ایک قابل قدر کام ہے

عرصہ دراز گزرجانے کے باوجود عاشورا کی نہ کوئی اہمیت کم ہوئی ہے اور نہ اس میں کوئی ضعف پیدا ہوا ہے بلکہ ہر سال عاشورا کے پروگرام، عزاداری اور اربعین کی رسومات کو بہت ہی عظمت و شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے ، یہ بات بتاتی ہے کہ یہ واقعہ اور انقلاب دوسرے تاریخی تمام حوادث کے برخلاف ، مادی اہداف سے تشکیل نہیں پایا ہے ۔‌

بچوں کے ساتھ تشدد اور غلط رفتار سے پرہیز کرنا ضروری ہے

والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اصلاح کریں ، بچہ اپنے ماں او رباپ کی رفتار و کردار کو دیکھتا ہے اور اس کی عکاسی کرتا ہے اور ان کے تمام حرکات وسکنات بچہ کے ذہن میں بیٹھ جاتے ہیں ، جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو وہ خود بھی متوجہ نہیں ہوتا اوران حرکات و سکنات کو دہراتا ہے ۔‌

جب تک استکبار کی قید و بند سے آزاد نہیں ہوں گے اس وقت تک کچھ نہیں کرسکتے

ہمیں موجودہ دنیا اور مستکبرین کے صفات سے آشنائی حاصل کرنا چاہئے ، اگر یہ آشنائی ہوجائے تو کبھی بھی دھوکہ نہیں کھائیں گے ، لیکن اگر آشنائی نہ ہو تو انسان دھوکہ کھاتا ہے ، عاقل انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے دشمن کوپہچانے اور دنیا کے مستکبرین کی اجاره داری کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو ۔‌

امریکیوں پر کسی بھی طرح اعتماد نہیں کیا جاسکتا / جو بھی علم کے ذریعہ زندہ ہے وہ فتنوں سے محفوظ ہے

امریکی چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس کوئی قدرت و طاقت نہ ہو اور اس طرح وہ ذلیل و خوار ہوجائے ، یہی وجہ ہے کہ امریکی قابل اعتماد نہیں ہیں اور آج بھی وہ ماحولیات اور یونسکو جیسے قوانین سے ایک طرفہ خارج ہو رہے ہیں ، اگر عہد و پیمان بندھا ہوا ہے تو پھر ایک طرفہ خارج ہونے کے کیا معنی ہیں ؟‌

برما کے جرائم پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی خاموشی پر آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا شدید انتقاد

اسلامی ممالک کب تک خاموش رہیں گے ؟ کیا اسلامی کانفرنس کمیٹی کو جس میں ٦٠ اسلامی ممالک موجود ہیں ،برما کے متعلق آواز نہیں اٹھانا چاہئے؟ اور ان مظلوموں کی حمایت نہیں کرنا چاہئے؟‌

ہمیں اپنے انقلاب کی حفاظت کرنا چاہئے اور اگر ہم نے ہوشیاری سے کام نہ لیا تو کچھ دن بعد معلوم ہوگا کہ انقلاب کے دشمنوں نے تمام مناصب پر قبضہ کرلیا ہے۔

رسول اللہ (صلی ا للہ علیہ و آلہ وسلم) کا نیا اسلامی انقلاب دو وجوہات کی بنیاد پر نا اہلوں کے ہاتھوں میں پہنچ گیا :‌ اول : تمام صحابہ کی عدالت اور ان کے اجتہاد کا مسئلہ ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہارے اطراف میں منافقین موجود ہیں اور تم ان کو ظاہری طور پر نہیں پہچانتے ہو ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر اکرم(صلی ا للہ علیہ و آلہ وسلم) کے اطراف میں تھے ، یہاں تک کہ منافقین جن کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے ، کیا وہ سب عادل تھے اور حقیقت کو بیان کرتے تھے؟‌ دوسری وجہ : صحابہ کے اجتہاد کا مسئلہ تھا ، ایسا اجتہاد جو ان کو ہر طرح کا جرم کرنے کی اجازت دیتا تھا ، بیعت کو توڑنے سے لے کر حضرت رسول خدا (صلی ا للہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیٹی کے گھر کو جلانے تک، یعنی ہر طرح کا جرم انجام دیتے تھے ، ایسا جھوٹا اجتہاد دجس کے ذریعہ انہوں نے جنگ جمل بپا کی اور اس میں ١٧ ہزار لوگ قتل ہوئے ، یا جنگ صفین میں عہد و پیمان کو توڑکر ایک لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا ۔‌

اسلام کے خلاف عربی، یوروپی اور امریکائی ناٹو کی تشکیل دی گئی ہے

امریکہ نے منصوبہ بنایا ہے کہ جس طرح شام اور یمن کو ویران کیا ہے اسی طرح دوسرے تمام اسلامی ممالک کو بھی ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے لئے آمادہ کردے تاکہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے ممالک کو نیست و نابود کردیں اور اس طرح امریکہ کا خراب شدہ اسلحہ بھی فروخت ہوجائے گا ۔‌

اسلامی جمہوریہ ایران، دہشت گرد ی کا دشمن ہے/ امریکہ پر اعتماد نہ کرنے کی دیوار کو اور زیادہ اونچا ہونا چاہئے / بہت بڑا جھوٹ بولنا ، عہد شکنی سے زیادہ غلط ہے۔

ایک زمانہ تھا جب بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ امریکہ سے لڑائی مول نہ لیں اور ان کے ساتھ مصالحت اور دوستی کرلیں کیونکہ اگر ہم دوستی کریں گے تووہ شرمندہ ہوجائیں گے اور ہم سے دوستی کرلیں گے ۔ یقینا بعض لوگوں کا یہ عقیدہ تھا ،لیکن آج حجاب ہٹ گئے اور معلوم ہوگیا کہ یہ لوگ ''وعدہ خلافی'' کرتے ہیں، ڈیڑھ سال تک مذاکرات کئے اور اب انہی مذاکرات کی مخالفت کررہے ہیں ۔‌

آل خلیفہ کو نصیحت ؛قذافی اور شاہ ایران کے انجام سے سبق حاصل کرو

آل خلیفہ کو ایران کے شاہ اور قذافی کے انجام س