دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کرنا ولایت کی پیروی نہیں ہے/بعض مشتبہ اور دوسروں سے وابستہ نیٹ ورک، دوسرے مذاہب کے مقدسات کی اہانت کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔

دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کرنا ولایت کی پیروی نہیں ہے/بعض مشتبہ اور دوسروں سے وابستہ نیٹ ورک، دوسرے مذاہب کے مقدسات کی اہانت کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔


حال ہی میں شیخ الازہر نے جو کہ اتحاد اور تقریب مذاہب کی طرف مائل ہیں ، شیعوں کے خلاف بہت سخت تقریر کی ہے اور اس کی اصل وجہ بعض ٹی وی چینل بتائی ہے جو دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کرتے ہیں ۔‌

حال ہی میں شیخ الازہر نے جو کہ اتحاد اور تقریب مذاہب کی طرف مائل ہیں ، شیعوں کے خلاف بہت سخت تقریر کی ہے اور اس کی اصل وجہ بعض ٹی وی چینل بتائی ہے جو دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کرتے ہیں ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے قم کی مسجد اعظم میں اپنے فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں حضرت ولی عصر (عج) کی امامت کے آغاز کی تمام مسلمانوں اور شیعوں کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا :  ان ایام میں سے ایسے کام انجام نہیں دینا چاہئیں جس سے مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچے ۔

انہوں نے وضاحت فرمائی : ممکن ہے کہ بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہوں کہ دوسروں کے مقدسات کی توہین کرنا ولایت کی پیروی کرنا ہے ، لیکن یہ بہت غلط بات ہے ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فرمایا :  حال ہی میں شیخ الازہر نے جو کہ اتحاد اور تقریب مذاہب کی طرف مائل ہیں ، شیعوں کے خلاف بہت سخت تقریر کی ہے اور اس کی اصل وجہ بعض ٹی وی چینل بتائی ہے جو دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کرتے ہیں ۔

انہوں نے فرمایا :  ٹیلی ویژن کے دو ، تین چینل ایسے ہیں جن کو یقینا دوسرے لوگ تحریک کرتے ہیں ، دشمن ان کو پیسہ دیتے ہیں تاکہ یہ ہمیشہ دوسرے مذاہب کی توہین کرتے رہیں ۔

معظم لہ نے فرمایا : اگر چہ میں الازہر یونیورسٹی کے سربراہ کو مستدل اور محکم جواب لکھوں گا اور اس بات کی تاکید کروں گا کہ یہ سب دشمن کا کام ہے ، آپ مذہب کو مراجع سے حاصل کرو ، مشکوک اور دوسرے لوگوںسے وابستہ ٹی وی چینل سے حاصل نہ کرو ۔

انہوں نے بیان کیا : یہی چیز اس بات کا سبب بنی کہ ایک تقریبی شخص ناراض ہوجائے اور شیعوں کے خلاف تقریر کرے ، اس سے قبیلوں کی جنگ شروع ہوجاتی ہے ، شیعہ اور سنی کی جنگ شروع ہوجاتی ہے جس کے آثار بہت نقصان دہ ہیں ، کیا عقل و شرع اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہم اپنے ہاتھ سے جنگ کے مقدمات فراہم کریںجس کی وجہ سے دونوں طرف خونریزی اور نقصان ہی نقصان ہوگا ؟

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ خوشی منانے اور جشن منعقد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، فرمایا :  محافل ومجالس میں ایسے تفرقہ آمیز کاموں سے پرہیر کرنا چاہئے جو نفاق، جنگ اور تخریب کا سبب بن رہے ہوں ۔

معظم لہ نے مزید فرمایا : میں دعا کرتا ہوں کہ حضرت امام زمانہ (عج) سے ہمارا رابطہ روز بروز زیادہ اور قوی ہونا چاہئے ، ہمیں شب و روز امام زمانہ کے ظہور کیلئے دعا کرنا چاہئے ، اس دنیا کی اصلاح فقط امام زمانہ ہی کریں گے ۔

آج مدرسہ فیضیہ میں حوزہ علمیہ کے مدرسین ، علماء اور طلاب کی طرف سے شیعیان نائیجیریہ کے قتل عام پر اعتراض آمیز اجتماع کے منعقد ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معظم لہ نے فرمایا :نائیجیریہ کی فوج کے ہاتھوں اس ملک کے مظلوم شیعوں کا قتل عام بالکل بے معنی تھا اور اس سے پہلے ایسا کوئی کام انجام نہیں پایا تھا ، اس ملک کی فوج نے ایسے اجتماع کا قتل عام کیا ہے جس کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ جرائم ، سعودی عرب اور اسرائیل کے اشارے پر ہورہے ہیں ، فرمایا : اس ملک کے مسلمانوں اور شیعوں کی مظلومیت کی آواز دنیا والوں کے کانوں تک پہنچانا چاہئے اور ثابت کرنا چاہئے کہ وہ لوگ تنہا نہیں ہیں ۔

captcha