بسم الله الرحمن الرحیم
وَ بَشِّرِ اَلصّٰابِرِينَ اَلَّذِينَ إِذٰا أَصٰابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قٰالُوا إِنّٰا لِلّٰهِ وَ إِنّٰا إِلَيْهِ رٰاجِعُون
ملت بزرگ اسلام، دنیا کے منصف مزاج اور ایران کی مقتدر اور شریف امت ! ایک بار پھر انسانیت کے بدترین قسم خوردہ دشمنوں کے ہاتھ کفر کی آستینوں سے باہر نکل آئے ہیں ۔اور اسلامی انقلاب کے رہبر فرزانہ اورمکتب نورانی اہلبیت (علیہم السلام )کے راستہ میں عالمی استکبار کے خلاف جد وجہد کرنے والے علمبردار کو شہید کردیا گیا ۔
وہ ایک ایسے ذہین اور بہادر رہبر (لیڈر ) تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں اسلامی انقلاب کے راستہ پر چلتے ہوئے تمام حوادث ، مشکلات اور سخت طوفانوں میں حق پر گامزن رہے اور اپنی دیرینہ خواہش (شہادت) کو حاصل کرلیا ۔ اور لشکر شہدا، اور شہداء کے امام کے ساتھ شامل ہوگئے فَمِنْهُمْ مَنْ قَضىٰ نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِر۔
اگر چہ یہ صدمہ بہت سخت ہے لیکن تاریخ اسلام گواہ ہے کہ حق کی راہ میں جہاد کو ہمیشہ خون کی قربانیوں سے سیراب کیا گیا ہے ۔ اور یہ شہادتیں، عزت، استقلال اور حضرت ولی عصر (ارواحنا فداہ) کے ظہور کا پیش خیمہ ہوں گی۔
اس نازک ، حساس اور نتیجہ خیز لمحات میں اسلامی ایران کے تمام عوام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو چند بنیادی نکات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے ۔
١۔ ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قدرت خدا کا ہاتھ تمام طاقتوں سے برتر اور بالاتر ہے ۔ان آزمائشوں اور امتحانات میں کوئی کمزوری نہ ہو کیونکہ خداوندعالم کی مدد کا وعدہ ضرور پورا ہوگا إِنْ تَنْصُرُوا اَللّٰهَ يَنْصُرْكُم
٢۔ جیسا کہ قرآن مجید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے خبردار کیا ہے(وَ مٰا مُحَمَّدٌ إِلاّٰ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ اَلرُّسُلُ أَ فَإِنْ مٰاتَ أَوْ قُتِلَ اِنْقَلَبْتُمْ عَلىٰ أَعْقٰابِكُمْ وَ مَنْ يَنْقَلِبْ عَلىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اَللّٰهَ شَيْئاً) خادمین دین کی شہادت سے ارادوں میں ذرہ برابر بھی تزلزلی نہیں ہونی چاہئے ۔یہ انقلاب ایسا شجرہ طیبہ ہے جو کسی ایک شخص سے وابستہ نہیں تھا اور بفضل الہی اور ''ان اللہ مع المتقین''سے تمسک کرتے ہوئے یہ علم ہمیشہ بلند و بالا رہے گا (ان شاء اللہ) ۔
٣۔ اب مجلس خبرگان رہبری کی اہم ذمہ داری کا وقت آگیا ہے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے قانون کے مطابق بہت ہی ہمت کے ساتھ بہت جلد اپنی ذمہ داری پر عمل کرے کہ یقینا یہ مجلس شرعا اور قانونا ''فصل الخطاب'' ہے ۔
٤۔ تمام حکومتی ممبران اور نظام کے خادمین پر فرض ہے کہ وہ اپنی ہوشمند تدبیر اور ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض کو پورا کریں جو اسی دن کے لئے منصوبہ بندی کی گئی تھی ۔ لہذا ملک کے معاملات کو آگے بڑھائیں اوراجازت نہ دیں کہ لوگوں کی زندگی و معاشرہ کے نظم و امن میں کسی طرح کا کوئی خلل واقع ہو ۔
٥ ۔ ہم ایک مکمل جنک کے درمیان ہیں ، ہماری مقتدر فوج اور پولس فورس لوگوں کی حونصلہ افزایی کررہی ہیں لہذا بہت ہی اچھے طریقہ سے دشمنوں کی کسی بھی سازش اور اشتعال انگیز کاروائی کو فورا کچل دینا چاہئے اور جب تک وہ تباہ نہ ہوجائیں بہت ہی تدبیر کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔
٦ ۔ ہماری فتح و کامیابی کا راز اتحاد ہے تمام ہمدرد اور قوم و ملت کے غیور افراد کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کے نفوذ اور شایعہ افکنی سے ڈٹ کر مقابلہ کریں ۔
٧۔ ملت ایران اور عالم اسلام ، شہید قاید انقلاب کے خون کا انتقام لے رہے ہیں ، اس جرم کے اصلی مرتکب، استکباری امریکی حکومت اور غاصب صہیونی منحوس رجیم ہے اور اس کا بدلہ لینا تمام مسلمین جہان کا دینی فریضہ ہے تاکہ مجرمین کا شر اس دنیا سے ختم ہوجائے ۔
٨۔ دعا اور توسل سے غفلت نہ کریں کیوکہ ہم اپنے زندہ اور نگہبان امام کے سایہ میں زندگی بسر کررہے ہیں اور وہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ حزن و اندوھ اور غمگین دل کے ساتھ لیکن نصرت الہی کی امیدوں پر قایم رہتے ہوئے بارگاہ الہی میں دست دعا بلند کرتے ہیں اور حق کی فتح و کامیابی کی دعا کرتے ہیں ۔
آخر میں ہم رہبر بزرگوار انقلاب اسلامی ، ان کے باوفا ساتھیوں ، ہمارے ملک کے بیشمار معصوم اور مظلوم بچوںاور بے گناہ عوام کی شہادت پر بقیة اللہ الاعظم (ارواحنافداہ) اور عموم مسلمین،دنیا کے آزادای پسند عوام، بالخصوص ایران کی عزیز عوام کی خدمت میںتعزیت و تسلیت عرض کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی سے ان کے لئے بلندی درجات اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل اور اجر عظیم کی دعا کرتے ہیں ۔
والسلام علی عباداللہ الصالحین
قم ۔ ناصر مکارم شیرازی
١٠ اسفند ١٤٠٤










