واقعا یہ بات مضحکہ خیز ہےکہ امریکی اس قدر انسانی حقوق کی پایمالی کےباوجود انسانی حقوق کےدفاع کا دم بھرتے ہیں، یا غاصب اسرائیل کہتا ہے کہ اگر ہم نے مصلحت دیکھی تو شام اور ایران کے تمام ایٹمی مراکز پر حملہ کریں گے، کیا سرکشی اور غیرقانونیت اس کے علاوہ کچھ اور ہے؟ انسانی حقوق کے اس قدرعالمی مراکزاور کمیٹیاں کس لئے ہیں؟ کیا یہ حیوانیت اور بربریت نہیں ہے؟
ہمیشہ بحرین کے ناگوار حالات کی خبریں ہمیں ملتی رہتی ہیں ، بحرین کے مسلمان کیا چاہتے ہیں ؟ وہ لوگ کہتے ہیں : جس ڈموکرسی اور لوگوں کی حکومت کو تم سب جگہ پر قائم کرنا چاہتے ہو وہی ڈموکراسی اس جگہ پر بھی برقرار ہونی چاہئے ، لیکن پُر امن احتجاج کا جواب بحرین کی حکومت سختی اور تشدد سے دے رہی ہے ۔
امریکہ کے وزیر خارجہ کی ادبیات غلط، تحقیرآمیز ، تہدید اور نفرت سے بھری ہوئی ہے اور سب کو وہ بہت بُرا لگتا ہے ، جان کیری کہتا ہے کہ جب سے جنیوا کے توافق پر دستخط ہوئے ہیں اس وقت سے اسرائیل کی امنیت زیادہ ہوگئی ہے اور دنیا کو بہت زیادہ امنیت مل گئی ہے ۔
ایسے کام انجام نہ دئیے جائیں جن سے مسلمان ایک دوسرے پراعتماد نہ کریں ، شیعہ دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین نہ کریں کیونکہ یہ داخلی جنگ کا سبب بن جائے گی ، مولا علی (علیہ السلام) کے متعلق مطالب بیان کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن دوسروں کی توہین نہ کی جائے ۔
اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل اور ان جیسے دوسرے مراکز دنیا میں صلح و امنیت اور انسانی حقوق کے دفاع میں تاسیس ہوئے تهے مگر افسوس که آج یہ خود ظلم اورنا انصافی کا وسیلہ بن گئے ہیں ۔
امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کی ایک روایت کی بنیاد پر جو لوگ علم حاصل کرنے کے لئے قدم اٹھاتے ہیں ،خداوندعالم ان کے لئے بہشت کا راستہ کھول دیتا ہے اور ملائکہ بھی اپنے بال و پر کو ان کے لئے زمین پر بچھاتے ہیں اور دنیا کی تمام موجودات ان کے لئے استفار کرتی ہیں ۔
مغربیوں خصوصا امریکیوں کی تعبیریں اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں بہت بُری، تیزاور نفرت آمیز ہیں ، یہ لوگ اگر چاہتے ہیں کہ ایرانیوں کے ساتھ مل کر کام کریں تو ان کو اپنی ادبیات کو تبدیل کرنا پڑے گا ۔
فیس بُک ایسے دور و دراز شہر کی طرح ہے جس میں تمام علماء ،دانشوروں ، چورروں ، شکار کرنے والوں اور مختلف قسم کے فساد میں آلودہ لوگوں کی دُکانیں ہیں اور ان دُکانوں میں کبھی ضرورت زندگی کے وسائل ہوتے ہیں اور ان میں سے اکثر و بیشتر میں گناہ ، فساد اور اخلاقی انحراف پایا جاتا ہے جو سب کے اختیار میں ہوتا ہے ۔
مذہبی انجمنوں ، مساجد اور امام بارگاہوں میں عزاداری حسینی کے استقبال میں جو آمادگی دکھائی دے رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انشاء اللہ اس سال بھی بیدار کرنے والی اور دشمن کی کمر کو توڑنے والی یہ رسومات ہر سال سے زیادہ بہتر طریقہ سے انجام دی جائیں گی ۔
ہمیں پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ لوگ اسلام میں بہت کم ہیں اور اقلیت میں ہیں اور اکثر مسلمان ان کے خلاف ہیں اور ان کے عقل و منطق سے دور اقدامات، دینی تعلیمات سے ذرہ برابر بھی مطابقت نہیں رکھتے ۔
حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کی طرف سے روانہ وفد نے حوزہ علمیہ کے بعض اساتید اور فضلاء کی موجودگی میں اتوار کے روز بتاریخ ١٦ ذی قعدہ الحرام ١٤٣٤ ھ مطابق با١/٧/٩٢ کو معظم لہ کے بعثہ میں اپنی کارکردگی کا آغاز کیا ہے ۔
انشاء اللہ ہمارے ذہین اور ہوشیار حکمراں اس بات کی طرف متوجہ ہیں کہ مغربی ممالک میدان عمل میں کس طرح کے پروگرام پیش کرتے ہیں ورنہ دنیا میں سفارتی تکلفات بہت زیادہ ہیں ۔
اسلام کے دشمن اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک روز متحد ہوجائیں گے لہذا وہ ہمارے درمیان اختلاف ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،سوء ظن اور بدبینی ایجاد کرتے ہیں،اگر تمام مسلمان ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیں توہم سب پوری دنیا میں عزت و شرافت اور اطمینان کےساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں.
گذشتہ زمانہ میں اس کام کے لئے یوروپ کے دو تین ملک، امریکہ کے ساتھ مل جاتے تھے اور اس کا نام بین الاقوامی اتفاق رائے رکھتے تھے اور اب یوروپ کے ان ملکوں کو بھی دور دفعہ کردیا گیا ہے اور امریکہ خود دنیا کے دوسرے ملکوں کے متعلق فیصلہ کرنا چاہتا ہے ، وہ بھی جھوٹے بہانوں کو ڈھال بناتے ہوئے ۔ ہماری رائے کے مطابق اس وقت کی یہ سب سے بڑی ذلت اور رسوائی ہے ۔
صدر اسلام میں مسجد النبی (ص) بظاھر مٹی کی اور بہت سادی تھی،مگر اُسی مسجد نے دنیا کی چولیں ہلا کر رکھدیں،اما افسوس عصر حاضر میں مسجد النبی(ص) اپنی تمام وسعت و بزرگی کے ساتھ اس میں فقط ایک نماز ظاهری طور پرہوتی ہے اور اس کے خادمِین نے امریکیوں کے ہاتھوں میں اپنے ہاتھ دے رکهے ہیں ۔
ہمیں امید ہے کہ تمام لوگ ، جوان ، عورتیں اور بچے یوم قدس کو ایک الہی فریضہ سمجھتے ہوئے اس کے مظاہروں میں شرکت کریں گے اور یہ بات بھی جان لیں کہ ان کے نامہ اعمال میں یہ ایک برجستہ اور اچھے کام کے عنوان سے ثبت ہوگا اور یہ امت اسلام اور مسلمانوں کی عزت و آبرو کا سبب ہوگا ۔
اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ یورپین اعتماد کے قابل نہیں ہیں ان کے کاموں میں کوئی حساب و کتاب نہیں ہے ، جو ان کا دل چاہتا ہے اسی کو اجراء کرتے ہیں اور دوسرے سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہے ۔
آج دنیائےاسلام کی سب بڑی مشکل وھابی ہیں جو اپنی وحشی گری کےذریعہ مسلمانوں کی عزت،آبرو،حیثیت اور اسلامی بنیادوں کو کاری ضرب لگانے میں مصروف ہیں، اور وہ اسلام جو آیین رحمت و محبت ہےاسے شدت پسندی،خشونت،خونریزی اور بے رحمی کا دین معرفی کرنے میں مصروف ہیں ۔
ہمارے دشمنوں نے عراق اور افغانستان میں شکست کھانے کے بعد اپنے حربوں کو مسلمانوں کے درمیان اختلاف ایجاد کرنے اور مسلمانوں کو قتل کرنے پر مرکوز کردئیے ہیں ، ایسے حالات میں مسلمان خصوصاعلمائےاسلام کوہوشیاری سےکام لینا چاہئے
حج کے احرام کی طرح اعتکاف بھی انسان کو مادی اور دنیوی مظاہر سے جدا کردیتا ہے ، اعتکاف کرنے والے انسان کو خانہ خدا میں اپنے معبود سے ارتباط پیدا کرنے کا موقع مل جاتا ہے تاکہ وہ اپنی آئندہ زندگی کے متعلق مصمم ارادہ کرسکے اور اگر ماضی میں کسی جگہ پرغلطی کی ہے تو اس کی اصلاح کرسکے ۔
اسلام کے دشمن مختلف سازشوں کے ذریعہ تمام مسلمانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں اور ان کے درمیان تفرقہ اور اختلاف ایجاد کرتے ہیں، اس وقت چند اسلامی ممالک میں دشمنوں کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں اور دشمن اس حالت سے فائدہ اٹھار ہے ہیں ۔
ایسی اکثریت کے حقوق کی طرف توجہ کیوں نہیں کی جاتی جو اپنے حقوق کو پُر امن طریقہ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں،حکومت بحرین کو جان لینا چاہئےکہ وہ اگر اسی طرح اپنےعمل کو جاری رکھے گی تو ان کی مقبولیت روز بروز کم ہوتی چلی جائےگی
تکفیری دہشت گرد وہابیوں نے حجر بن عدی کے مزار کی جو بے حرمتی کی ہے اس کے عینی گواہوں کا کہنا ہے کہ ان کا جسم بالکل صحیح و سالم تھا اور وہابیوں نے ان کے جسم کو اغوا کرکے کسی دوسری جگہ پر دفن کردیا ہے ۔
ان انسان نما وحشیوں کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، کیونکہ یہ نہ زندہ انسانوں پر رحم کرتے ہیں اور نہ خاک میں دفن شہیدوں پر، اور اگر انہیں قدرت اور اقتدار مل گیا تو یہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی گنبداور ملکوتی بارگاہ کو بھی منہدم کر دیں گے، کیونکہ یہ کئی بار اشاروں کنایوں میں اس بات کا اظہار کرچکے ہیں ۔
سعودی حکام کو جان لینا چاہیےکہ اس ملک کے شیعہ تنہا نہیں ہیں اگرانہیں کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو پوری دنیا کے شیعہ اورغیر شیعہ خاموش نہیں رہیں گے آل سعودحکام تصور نہ کریں کہ ان کے خلاف ایک ظاهری عدالت میں حکم صادر کر دیں گے.
دمشق کی مسجدجامع کےامام جمعہ جوشام میں اہل سنت کےمشہورمفتی بھی تھے،پچاس اہل سنت نمازیوں کے ساتھ دہشت گردوں کےحملہ میں شہید اورسوافراد زخمی ہوگئے اوردہشت گردوں نےخانہ خداکوبےگناہ لوگوں کےخون سےرنگین کردیا
اہل بیت (علیہم السلام) کے مذہب کی ترویج اوراسلامی تعلیمات کو مختلف علاقوں میں رائج کرنے کے لئے مسلمانوں کی اشد ضرورت کا احساس کرتے ہوئے معظم لہ کے دفتر کی سایٹ نے اردو زبان میں اپنی کارکردگی کو دوبارہ شروع کردیا ہے ۔
خدانخواستہ اگر وہابی علماء یک روز فتوی دیں کہ کعبہ کا طواف اور حجر اسود کو بوسہ دینا بھی ایک طرح کا شرک اور بت پرستی ہے اور وہ خانہ خدا کو منہدم کرنے کا ارادہ کرلیں تو کیا پھر بھی علمائے اسلام خاموش رہیں گے؟