ہمیں سعودی عرب اور بحرین سے ایسے مراسلے موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرین کے بعض علمائے دین کو حراست میں لیا گیا ہے؛ سعودی حکام نے مدینہ منورہ میں رہنے والے شیعیان اہل بیت (ع) کے لئے وسیع مسائل کھڑے کر رکهے ہیں .
پاکستان کا حادثہ بہت دردناک ہے ، آج ہمیں تمام لوگوں کو عام دعوت دے کر سب کو ایک جگہ جمع کرنا چاہئے تاکہ سب پاکستان کے لوگوں کی فریاد کی طرف تیزی سے دوڑیں، اور ان کو اس بڑی مصیبت سے نجات دلائیں ۔
دنیا کے تمام مسلمان اور آزاد منش لوگوں پر لازم ہے کہ پاکستان کے سیلاب اور مصائب میں گرفتار لوگوں کی مدد کرنے میں جلدی کریں اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کی اس امر میں مدد کریں ۔
اے سعودی عرب کے حاکموں! تم اپنے ملک کے شیعوں کے ساتھ ایسا کردار کیوں پیش کررہے ہو ، یہ تمہارے ملک کے باشندے ہیں ، کئی سالوں سے یہ وہاں موجود ہیں اور ان کو اپنے دین و مذہب کے مطابق عمل کرنے کا حق حاصل ہے ۔
ماہ رمضان المبارک کی آمد ، آن لاین جواب حاصل کرنے والے قارئین محترم کے استقبال اور وقت بڑھانے کی درخواست کو مد نظر رکھتے ہوئے مومنین کواطلاع دی جاتی ہے کہ شرعی احکام کے جوابات دینے کا وقت بڑھا کرتہران کے ٹائم کے مطابق شام کے 4 بجے سے 8 بجے تک کردیاگیا ہے ۔
ماہ رمضان خداوندعالم کی ضیافت کا مہینہ ہے، ہمیں چاہئے کہ اس مہینہ میں توبہ کے ذریعہ اپنی روح و نفس کا تزکیہ کریں ، تقوی اور پرہیزگار کا لباس زیب تن کریں اور اپنے آپ کو مکار اخلاق کے زیور سے آراستہ کریں ۔
انتہاپسند وہابیت کے شجرہ خبیثہ نے ایک بار پھر اپنے مذموم اقدام کے ذریعہ زاہدان میں ہمارے عزیزوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا۔ بزدلانہ دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کا وحشیانہ قتل عام ان کے شرمناک اور انسانیت کش مذہب کی تعلیمات کا نتیجہ ہے .
حضرت آیتاللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: عالمی ولایت چینل علمی و منطقی انداز سے دین اسلام اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے معارف اپنے ناظرین کی خدمت میں بیان کرے گا اور اس چینل کی بنیاد قرآنی تعلیمات پر استوار ہے۔
مسئلہ مہدویت بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور اسی وجہ سے مہدویت کے دشمن بھی بہت زیادہ ہوگئے ہیں، وہابی اور گمراہ فرقے اس کے اصلی دشمن ہیں جو اس کی بہت زیادہ مخالفت کرتے ہیں اورشیعی معاشرہ میں مہدویت کے مثبت آثار سے ڈرتے ہیں ۔
ہمیں یقین ہے کہ اسلامی تعلیمات میں بہت زیادہ ایسے موارد پائے جاتے ہیں جن کو انٹرنیشنل قوانین میں بڑھایا جاسکتا ہے لہذا ضروری ہے کہ اسلامی دانشمندافراد اور دنیا کے تمام متفکرین کے درمیان انٹر نیشنل قوانین کو ثمر بخش بنانے کیلئے نزدیکی مشترکات پر عمل هو۔
شہر ریاض کے امام جمعہ کی طرف سے حضرت آیة اللہ سیستانی کی اہانت مذموم ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ معظم لہ کا شمار شیعوں کے مشہور مراجع تقلید میں ہوتا ہے اور ان کی توہین ، شیعوں کے تمام مراجع اورجمہوری اسلامی ایران کی توہین ہے۔
سب کو اتحاد کی دعوت دو ، ایسا نہ ہو کہ مجالس امام حسین (علیہ السلام) سیاسی پارٹیوں کا آلہ ٴ کار بن جائیں، مجالس امام حسین (علیہ السلام) اتصال و اتحاد کا ایک حلقہ ہیں،لہذا تمام دلوں کو ایک دوسرے سے متحد ہونا چاہئے۔
تمام آگاہ و با خبر مسلمان، اعتراض کریں،بین الاقوامی اداروں پر دباؤ ڈالیں اور یمن کے بے گناہ، مظلوم شیعوں کو ظالموں اور ستمگروں سے نجات و رہائی دلانے کیلئے نماز کے قنوت میں اور نماز کے بعد دعا کریں۔
افسوس کہ گذشتہ سالوں میں غیرملکی اور اجنبی خصوصامتعصب وہابیوں کے بھڑکانے سے ماحول میں کچھ کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور ان دونوں مذہبوں کے درمیان بدگمانی کے اسباب فراہم ہوگئے ہیں اور وہ پہلے والی محبت ، دوستی اور قربت کو مخدوش کردیا ہے۔
تشدد کے خاتمہ کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ ہم اس کی تہہ کا سراغ لگائیں، اس کی اصلی وجہ وہابیوں کے ان دینی مدارس میں چھپی ہوئی ہے جہاں صریحا یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ فقط تم مسلمان ہو بقیہ سب لوگ مشرک یا کافر ہیںان کی جان و مال حلال اور ان کا قتل واجب ہے۔
بقیع کی قبروں کو منہدم کرنے کی اصل وجہ وہابیت کا اسلام کو غلط سمجھنا ہے۔
اسلامی بحثوں کی بنیاد توحید اور شرک پر متوقف ہے ، لیکن وہابی حضرات ان دونوں مسئلوں کی ایسی غلط اور بیہودہ تعریف کرتے ہیں جس سے اسلام کا کوئی واسطہ نہیں ہے ، اس مسئلہ میں دنیا کے تمام مسلمان خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت، سب ایک طرف ہیں اور یہ ایک چھوٹا سا گروہ (وہابی) ایک طرف ہے۔
عالم ربانی، مجاہد جناب حجة الاسلام والمسلمین آقای سید عبدالعزیز حکیم قدس سرہ الشریف ، صدر محترم مجلس اعلی عراق کی غم انگیز رحلت نے اسلامی ملکوں خصوصا دنیا کے شیعوں کے درمیان غم و اندوہ سے لبریز ایک لہر پیدا کردی ہے۔
اعتکاف یعنی تین دن تک خدا کے گھر میں خدا کا مہمان رہنا، تمام مادی چیزوں سے رابطہ کو منقطع کردینا ، تین دن روزے رکھنا،اور تین شب و روز اس کے ذکر، مناجات اور اس سے راز و نیاز کرنا ، اپنی گذشتہ باتوں کی طرف توجہ کرنا،غلطیوں کی اصلح کرنا اور آئندہ میں تقوی اور قداست کے ساتھ قدم رکھنے کی دعا کرنا۔
آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے مٹھی بھر وہابیوں کی طرف سے لاکھوں شیعوں کو قتل کرنے کے حکم سے متعلق ان کی مذمت کی ہے اوربین الاقوامی اداروں سے درخواست کی ہے کہ اس حکم کے خلاف اپناعکس العمل ظاہر کرے۔
آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اتوار کے دن اپنے درس خارج سے پہلے مسجد اعظم قم میں وہابیوں کی دینی مفاہیم سے متعلق غلط تفسیر او رمخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عقلاء اور وہ لوگ جو بدعت کو ختم کرناچاہتے ہیں ان کو مذہبی مجالس سے آگاہ رہنا چاہئے تاکہ بہت سے جاہلوں کے افراطی کاموں کی وجہ سے مخالفین کو بہانہ نہ مل سکے۔
بقیع کی قبروں کو منہدم کرنے کی اصل وجہ وہابیت کا اسلام کو غلط سمجھنا ہے۔
اسلامی بحثوں کی بنیاد توحید اور شرک پر متوقف ہے ، لیکن وہابی حضرات ان دونوں مسئلوں کی ایسی غلط اور بیہودہ تعریف کرتے ہیں جس سے اسلام کا کوئی واسطہ نہیں ہے ، اس مسئلہ میں دنیا کے تمام مسلمان خواہ وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت، سب ایک طرف ہیں اور یہ ایک چھوٹا سا گروہ (وہابی) ایک طرف ہے۔