کیا تم اسلام کے بزرگ مفتیان کرام اور علماء عظام اس وحشتناک حالت کے سامنے جو کہ یقینا آج کی نسل کے اوپر تاریخ اسلام میں بہت ہی ذلت و خواری کی بات ہے ، خاموشی اختیار کرے رہو گے ؟ کیا اپنے صریح فتوں کے ذریعہ اس وحشت گری کا سامنا نہیں کرو گے جو کہ اسلام کے دشمنوں کے فائدہ میں ہے ۔
سعودیہ کی حج کمیٹیوں کے ذمہ داروں کو اگاہ کیا جائے کہ حج اور عبادت کے مسائل کو سیاست کے مسائل سے الگ رکهنا اچھی بات ہے مگر عبادت کے مسائل کی اچھی طرح انجام دہی ھمارے سیاسی مسائل پر بھی اثر انداز ہے۔
ان تمام کاموں سے قرآن کریم اور امام ہادی (علیہ السلام) کی عظمت کم نہیں ہوتی بلکہ یہ کام سبب بن جاتے ہیں کہ لوگ امام ہادی (علیہ السلام) کے متعلق وسیع پیمانہ پر پروگرام قائم کریں اور آپ کے کلمات کو زیادہ سے زیادہ منتشر کریں ۔
ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی شان میں ہر طرح کی توہین کرنے والا اگر مسلمان ہو تو مرتد ہے اور اگر مسلمان نہ ہو تو اس کا شمارسب النبی (ص) کے دائرہ میں ہوگا ۔
ان تمام جرائم کی جڑیں وہابیت میں پیوست ہیں؛ وہابیت عالم اسلام کے لئے ایک مصیبت میں تبدیل ہوچکی ہے اور اسلام کی بدنامی کا باعث نبی ہوئی ہے؛ علمائے اسلام کو یہ مسئلہ حل کرنے کےلئے آگے آنا چاہئے ۔
وہابی کسی بھی طرح کی منطق ، قانون اور عقلی باتوں کو قبول نہیں کرتے اور بہت ہی بے رحمی سے بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں، پاکستانی حکومت جس قدر جلدی ممکن ہو اس دردناک جرائم کو انجام دینے والوں کی پہچان کرے اور ان کو اس ناپاک عمل کی سزا دے تاکہ دوبارہ کوئی ایسا دردناک عمل انجام نہ دے سکے ۔
ہم قران کریم کی اہانت کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اپنے مالکوں کی رضایت میں اس حادثہ پر خاموشی اختیار کرنے والے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی بھی مذمت کرتے ہیں ۔
مجهے امید ہے کہ دنیا کے مسلمان خواب غفلت سے جاگ اٹھیں گے اور اسلامی تہذیب کا احیاء کریں گے کیوں کہ مغربی افراد انسان اور انسانی تہذیب کے نام پرجنایات انجام دے رہے ہیں اور مسلمان ھرگز اس تہذیب کو نہیں اپنائیں گے
حال حاضر میں ایران پر انسانی حقوق سے متعلق بہت زیادہ اعتراض کئے جارہے ہیں جب کہ بہت سے عربی ممالک میں نہ الیکشن ہوتا ہے ،نہ وہاں پر ڈموکراسی ہے اور نہ ہی حقوق بشر پر پابندی کی جارہی ہے ۔ لیکن ان پر کوئی اعتراض نہیں کرتا کیونکہ ان کے ذریعہ انہیں بہت زیادہ فائدہ ہورہا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمیں عایشہ پر بہت زیادہ اعتراض ہیں ،ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کے خلاف قیام کیا جس میں بیس ہزار لوگ قتل ہوئے ، لیکن تم نے عایشہ کی طرف ناروا نسبت دے کر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شان میں بہت بڑی گستاخی کی ہے ۔
سب پر واضح ہے کہ انسانیت کے خلاف، ہولناک جنایات کی آگ بھڑکانے والے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ، امریکہ، اسرائیل اور ان کے ہاتھوں بنی کٹھ پتلیاں بعض عرب ممالک ہیں ، یہ لوگ اپنے کثیف اور مادی منافع کو بچانے کیلئے سب جگہ پر خون کا حمام گرم کرنے کیلئے تیار ہیں
آج بھی مسلمانوں کا ایک گروہ بحرین، احصاء، قطیف اور آذربایجان میں اسلام کے مخالف عناصر کے شدید دباؤ میں ہے ، اس راستہ کی انتہاء اچھی نہیں ہے اور آذربایجان، بحرین اور حجاز کے شیعہ خاموش نہیں بیٹھیں گے اوردنیا کے تمام شیعہ ان کے ساتھ ہیں ۔
آج مغربی افراد نے اپنے خیال خام میں ہمارے خلاف نفسیاتی جنگ چھیڑ دی ہے اورانہوں نے پابندیوں اور دھمکیوں کے ذریعہ ہمارے لئے محدودیت پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے بعض لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں ، جب کہ ہمیں پر ان دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں ہے ۔
ہمیں مغرب کے تعلیمی نظام اورعلم و دانش کی ترقی کے انحصار کو ختم کرنا چاہئے اورہمیں امید ہے کہ ہمارے جوان اپنی بلند و بالا استعداد کو بروئے کار لا کر علم کے بخیلوں کو شرمندہ کرکے رہیں گے ۔
ایران کے لوگ ،عاشورا کے ذریعہ اپنے آپ کو بیمہ کرتے ہیں اور کبھی مغلوب نہیں ہوتے ، دشمنوں کی نظر میں جب تک عاشورا کا وجود ہے اس وقت تک پابندیاں ایران پر کوئی فشار وارد نہیں کرسکتیں ۔
میں اپنے تمام عزیزوں کو ایک مشفقانہ نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ایسے حالات میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں، رہبر معظم حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای اور دوسرے مسئولین کی اجازت کے بغیر کوئی اقدام نہ کریں، ہمیں بہت ہی سمجھداری اور ہوشیاری سے کام لینا چاہئے اور دوسروں کو بہانہ بنانے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہئے ۔
۱۴۳۳ ہجری کا محرم اور عاشورا اپنی پرشکوہ عظمت کے ساتھ آرہاہے اور شہداء کربلا کے طیب و طاہر خون کی گرمی ایک مرتبہ پھر عزاداروں کو ایک نئی طاقت عطاء کرے گی اور آپ کے مدرسہ کے طالب علم اس سال ماہ محرم کی تمام رسومات کو اچھی طرح منائیں گے ۔
اس حقیقت سے غافل نہ ہوں کہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد اور ناروا تکفیری فتووں سے دشمنان اسلام بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی خدمت ہوتی ہے کیونکہ اس کا نتیجہ وہابیوں سے شیعہ مسلمانوں کی شدید نفرت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔
قرضاوی ،مصر اور لیبیا کے قیام کی حمایت کرتے ہیں لیکن جب بحرین کا مسئلہ آتا ہے تو ظلم و استبداد کی حمایت کرتے ہیں، کیا ایک عالم دین کے لئے دو طرح کی باتیں کرنا صحیح ہے؟
دنیا کے مسلمان کیوں خاموش ہیں؟!
اسلام کے محافظین ، مفکرین اور سیاستداں کیوں خاموش بیٹھے ہیں؟ اسلامی کانفرنس کی خاموشی کی کیا وجہ ہے ؟ اتحادیہ عرب کیوں کچھ نہی کر رہی ہے ؟ کیوں ان کے سروں پر پرنده بیٹهے هوئے هیں ؟
ظالم حکمرانوں کے خلاف عوامی قیام کی مذمت کرنے والے مفتی جلد از جلد اس پرانے غلط فتوے،اپنے فتووں اور اپنے موقف پر نظر ثانی کریں اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوجائیں اور ان تحریکوں کی باگ ڈور سنبھالیں تا کہ اسلام دشمن قوتیں ان انقلابات سے فائده نہ اٹهاسکیں.
آج دنیا کے حالات ایسے موڑ پر آگئے ہیں جہاں مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے ، علاقہ میں ایسا عظیم طوفان اور سیاسی زلزلہ پہلے کبھی نہیں آیا ہے ۔
ہم دنیا بھر کے شیعوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس قتل عام کے سامنے خاموش نہ رہیں اور اپنے اعتراض کی آواز کو چاروں طرف سے بلند کریں تاکہ بحرین کے شیعہ خیال نہ کریں کہ وہ تنہا ہیں ۔
اسلامی ممالک کے سربراہوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ غیروں اور بیرونی ممالک کے لوگوں پر اعتماد کرنے کا زمانہ ختم ہوچکا ہے لہذا اپنی قوم پر اعتماد کریں اور ان کی خدمت کریں اور یہ جان لیں کہ بیرونی ممالک والے ان کو کبھی بھی نجات نہیں دے سکتے ۔
آپ لوگوں کی طرف سے اٹھائے گئے یہ قدم تاریخ میں ھمیشہ کے لئے ضبط و ثبت ہو جائیں گے اور یه بهی جان لیجئے کہ آپ کے اس اقدام کو جو که سو فی صد انسانی ہے.
انشاء اللہ کچھ واضح دلیلوں کی وجہ سے اس سال بھی گذشتہ سالوں کی طرح امام حسین کی مجالس اور جلوس عزاء کو بہت ہی شان و شوکت کے ساتھ منانا ضروری ہے اور دشمنوں کے مختلف فتنوں کو ان شعائر کی تعظیم کے ذریعہ ختم کرنا ضروری ہے ۔
قرآن کریم کے دشمنوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے برے کاموں کے ذریعہ قرآن کریم کی عظمت کو کم نہیں کرسکتے ، بلکہ اس عمل کے ذریعہ وہ اپنے وحشی ہونے کو ثابت کررہے ہیں ۔