امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزاداری کے نام پر سیاسی کاموں اور پارٹی بازی سے پرہیز کریں/ عزاداری میں بعض انحرافات کے واقع ہونے کی طرف توجہ

امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزاداری کے نام پر سیاسی کاموں اور پارٹی بازی سے پرہیز کریں/ عزاداری میں بعض انحرافات کے واقع ہونے کی طرف توجہ


آج کے زمانہ میں پہلے سے زیادہ ذاکری ہو رہی ہے ، اسی بناء پر ان مخصوص ایام میں بہت زیادہ توجہ اور حفاظت کی ضرورت ہے ، امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزاداری کے نام پر سیاسی کاموں اور پارٹی بازی سے پرہیز کریں، خطباء کو بھی زیادہ سے زیادہ حفاظت اور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔‌

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے ریڈیو معارف اور ریڈیومحرم کے ذمہ داران سے ملاقات کے دوران محرم اور عاشورا کو شیعوں کے بہت ہی اہم سرمایہ سے تعبیر کیا اور تاکید کی : دشمنوں کا ہدف مرجعیت اور عاشورا کو نقصان پہچانا ہے اور اس مسئلہ پر ان کی بہت زیادہ توجہ ہے اور اس ہدف کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بہت عظیم سرمایہ خرچ کرتے ہیں ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے قیام عاشورا سے سبق حاصل کیا ہے ، فرمایا : محرم اور عاشورا سے متعلق مسائل میں تمام گروہوں اور پارٹیوں کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے اور اپنے تمام اختلافات کو ختم کردینا چاہئے اور یہ حلقہ اتصال بہت ہی زیادہ قیمتی اور گرانقدر ہے ۔

معظم لہ نے فرمایا کہ دشمنوں کی کوشش یہ ہے کہ لوگ ، عزاداری محرم او ر عاشورا کے پروگراموں میں کم سے کم شرکت کریں لہذا ہوسکتا ہے کہ وہ بہت سے نقصان پہنچائیں اس لئے ہمیں پہلے سے زیادہ محتاط اور حفاظت کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے ذاکرین اور خطیبوں کو ہمیشہ کی طرح نصیحت کرتے ہوئے بیان فرمایا : آج کے زمانہ میں پہلے سے زیادہ ذاکری ہو رہی ہے ، اسی بناء پر ان مخصوص ایام میں بہت زیادہ توجہ اور حفاظت کی ضرورت ہے ، امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزاداری کے نام پر سیاسی کاموں اور پارٹی بازی سے پرہیز کریں، خطباء کو بھی زیادہ سے زیادہ حفاظت اور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے ذاکری اور عزاداری میں رائج بہت ہی غلط طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے بعض طریقہ تو بہت ہی خراب اور امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی شان سے بہت ہی دور ہیں ، لہذا اس طرح کے غلط طریقوں سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

انہوں نے اختتام پر فرمایا : ہمیں امید ہے کہ سب اس عظیم سرمایہ کی حفاظت کریں گے اور اسلام و مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترقی کے لئے اس سے اچھی طرح فائدہ اٹھائیں گے ۔