اپنے علاقہ کے جونوں کی طرف زیادہ سے زیادہ اہمیت دیجئے ، آج جونوں کے اخلاق اور عقیدہ کو منحرف کرنے کے لئے بہت زیادہ پروپگنڈہ کیا جارہا ہے ، لہذا ہم اسلامی تہذیب و ثقافت کے ذریعہ اپنے جوانوں کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ کرسکتے ہیں ۔
یہ ایک طرح سے ''حلب'' کی شکست کی تلافی کرنا چاہتے ہیں ، خوشی کی بات یہ ہے کہ دنیا اب متوجہ ہوگئی ہے اور وہ امریکہ کے مگر مچھ کے آنسووں سے دھوکہ نہیں کھاتی ، تمہارے تمام منافقانہ پروگراموں اور کاموں کے تناقض کی طرف متوجہ ہوچکے ہیں ۔
حوزہ علمیہ قم کے محققین کے دوگروہوں نے تکفیر اور دہشت گردی کی نحس اصل واساس کو تلاش کرکے ثابت کردیا کہ اس کی جڑیں سعودی عرب کی وہابیت ہے۔ یہ کتاب فارسی زبان میں منظر عام پر عاچکی ہے ۔ عربی ، انگریزی اور اردو زبان میں اس کا ترجمہ ہورہا ہے جو بہت جلد منظر عام پر آجائے گا۔
آج پردے ہٹ گئے ہیں اور ثابت ہوگیا ہے کہ مغربی فقط قدرت کی زبان سمجھتے ہیں ، قانون کی زبان، حقوق بین الملل کی زبان، عالمی مراکز کی زبان ایسے مسائل ہیں جن کی طرف مغربی متوجہ نہیں ہوسکتے ۔
مہدویت کی حقیقی تہذیب کو ترویج اور توسیع دینا اور مہدویت کے میدان میں شبہ ڈالنے والوں سے مقابلہ کرنابہت ضروری ہے / بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ مسجد مقدس جمکران میں چالیس بار جانے سے ان کی مشکلات دور ہوجائے گی ، لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے کہ ان کا اخلاق اور کردار بھی مہدوی ہونا چاہئے/ مسجد مقدس جمکران کی عظمت جس قدر زیادہ ہوگی ، حسد کرنے والوں کی تخریبی کارکردگی اسی قدر زیادہ ہوگی ، لہذا ان اثاثوں کی حفاظت کے لئے ''اربعین''، ''جمکران'' اور اہل بیت (علیہم السلام کے پاک و پاکیزہ اعتقادات سے استفادہ کرنا چاہئے ۔
ہم اپنے مسلمان دوست ملک انڈونیشیا کے ساتھ ہر طرح کی مدد کرنے لئے آمادہ ہیں / ہمارے انڈونیشی بھائیوں کو تکفیری وہابیت کے نفوذ سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے اس وقت انڈونیشیا میں بہت زیادہ آرام وسکون پایا جاتا ہے ۔
حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا نے اپنے بھتیجے امام سجاد علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : مستقبل میں تمہارے والد حسین علیہ السلام کی قبر پر ایک ایسا پرچم لہرایا جائے گا جو کبھی پُرانا نہیں ہوگا اور زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گااور کفر کے علمبردار اس کو مٹانے کی جس قدر کوشش کریں گے اسی قدر روز بروز اس کی عظمت میں اضافہ ہوگا ۔
آج کی دنیا میں جبکہ بے رحم ظالم اور ستمگر ، مظلوم مسلمانوں کا خون بہانے کے لئے کھڑے ہوگئے ہیں تو مظلوم قوموں کو انقلاب عاشورا سے سبق حاصل کرتے ہوئے کھڑے ہوجانا چاہئے اور دنیا سے ان کے شر کو ختم کردینا چاہئے ۔
زیارت اربعین کو تربیت کے بلند و بالا مکتب میں تبدیل کرنا چاہئے ، اپنے تمام گناہوں کو توبہ کے پانی سے دھوئیں ،اخلاق رذیلہ کو ترک کریں ا ور تربیت حاصل کریں ۔
یہ دو کروڑ کا بے نظیر مجمع مکتب اہل بیت علیہم السلام کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے ، چاہے دشمن کچھ بھی کرلیں یہ مکتب سب کے سامنے منتشر ہوتا رہے گا اور اسلام و مکتب اہل بیت علیہم السلام کے لئے جذابیت ایجاد کرتا رہے گا ۔
امام سجاد علیہ السلام نے استقامت، مقاومت ، یزیدی استبداد کے سامنے تسلیم نہ ہونے اور کوفہ وشام میں بہترین خطبہ ارشاد فرما کر ان دونوں شہروں کے لوگوں کو یزید کے خلاف بھڑکا دیا اور اس جگہ کو خاندان بنی امیہ کے لئے نا امن کردیا ۔
مغربی جمہوریت اور تہذیب و ثقافت سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے ، انہیں نہیں معلوم کہ وفا کیا ہے اور یہ اپنے وعدوں پر پابند نہیں ہیں اور یہ لوگ جو حقوق بشر کا نعرہ لگاتے ہیں ، اس پر بھی پابند نہیں ہیں ، البتہ افسوس کہ ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ بعض ممالک ہیں جو مغرب والوں کے دلدادہ ہیں ۔
یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ جب بھی فشارزیادہ ہوتا ہے تو امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی طرف توجہ زیادہ ہوجاتی ہے ، کربلا میں ساٹھ لاکھ زائرین کے مجمع کی مثال بے نظیر ہے ۔
تاریخ کربلا کے درخشاں لمحات عزت کی زندگی اور عزت و عظمت کی موت کو بیان کرتے ہیں اور یہ وہی سبق ہے جوا مام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے روز میدان کربلا میں دنیا کو دیا ہے ۔
عزاداری اس طرح منانا چاہئے کہ سب لوگ امام علیہ السلام کے اہداف سے آگاہ ہوجائیں ،عزاداری کا طریقہ بھی ائمہ علیہم السلام اور عرف عقلاء کے مطابق ہونا چاہئے ۔
ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ دین فروش نہ ہوں ، اس وادی میں ہم ایسے شخص کی اقتداء کریں جو بیچنے والا نہ ہو ، حسین بن علی علیہ السلام کی اقتداء کریں جو اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان کو دیدیتے ہیں ، لیکن دین کو نہیں دیتے ۔
ہم جو یہ کہتے ہیں ' یا لیتنا کنا معک' اس کے معنی یہ ہیں کہ شہدائے کربلا کے قدم پر قدم رکھیں اور اپنے آپ کو عاشورا کی تعلیمات اور پیغامات سے ہماہنگ کریں جس کے لئے شہدائے کربلا شہید ہوئے ہیں ۔
حسینی جوش وخروش کا ختم نہ ہونے والا رابطہ اور عاشورا کی معرفت ، مطلوبہ اور صحیح عزاداری کی سب سے اہم خصوصیت ہے / عزاداری کی رسومات کو بہت ہی جوش و خروش کے ساتھ ہر سال سے زیادہ اچھے طریقہ سے منانا چاہئے اور جو کام بھی اس کی عظمت کو مخدوش کرے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔
عشق اور صحیح پیروی کا دعوی اس وقت کیا جاسکتا ہے جب اپنے زمانہ کے مفاسد کی طرف غور وفکر کیا جائے اور جس قدر ممکن ہو اس سے مقابلہ کیا جائے / اور یقینا عزاداروں کا یہ عظیم اجتماع ، معاشرہ کے مفاسد سے مقابلہ اورقوم کی اصلاح کرنے کے لئے صحیح اور منطقی اعتبار سے فیصلہ کر لے تو کامیابی ضرور ملے گی ۔
میں بقیة اللہ الاعظم امام مہدی منتظر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے عصر غیبت میں مراجع کرام کے حکیمانہ موقف پر افتخار کرتا ہوں اور اس موقف کا احترام کرتا ہوں اور خداوند قدیر سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کا سایہ ہمیشہ ہمارے سر پر باقی رہے اور پوری دنیا میں یتیمان آل محمد کی سرپرستی کے لئے آپ کی حفاظت فرمائے۔
اصل عزاداری میں لوگوں کی بیداری، اسلامی امت کی آگاہی اور ظلم وستم سے مقابلہ کرنے کا پہلوپایا جاتا ہے اور حقیقت میں یہ ایسا مکتب ہے جس میں انسان کے برجستہ صفات کی پرورش کی جاتی ہے ، لہذا یہ کہنا ضروری ہے کہ عاشورا ایک 'حادثہ' نہیں ہے بلکہ ایک 'تاریخی واقعہ' ہے ۔
کیتھولک دنیا کے رہبر پاپ فرانسس نے حضرت آیت الله مکارم شیرازی کے خط کا شکریہ ادا کیا اور کہا: دینی رھنما ماضی سے زیادہ عصر حاضر میں انسانی کرامت اور انسانی حقوق کا مطالبہ کریں ۔
بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ علمائے اہل سنت نے چیچنیا میں بہت ہی صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ وہابیت کا شمار ، اہل سنت کے مذاہب میں نہیں ہوتا اور ہم بھی کہتے ہیں کہ وہابیت ہمارے مذہب کا جزء نہیں ہے ، الحمدللہ ان کے متزلزل ہونے کے مقدمات فراہم ہورہے ہیں اور دنیا بیدار ہورہی ہے کہ وہابی لوگ کس قدر خطرناک افراد ہیں ۔
یقینا یہ جانگداز حادثہ آل سعود کے دامن پر ایک داغ تھا جو اپنے آپ کوحجاج کی حفاظت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور یہ ایسا داغ ہے جو کسی بھی پانی سے پاک نہیں ہوسکتا ۔